Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا

نقش کی طرح ابھرنا بھی تمہی سے سیکھا

رفتہ رفتہ نظر آنا بھی تمہی سے سیکھا

 

تم سے حاصل ہوا اک گہرے سمندر کا سکوت

اور ہر موج سے لڑنا بھی تمہی سے سیکھا

 

اچھے شعروں کی پرکھ تم نے ہی سکھلائی مجھے

اپنے انداز سے کہنا بھی تمہی سے سیکھا

 

تم نے سمجھائے مری سوچ کو آداب ادب

لفظ و معنی سے الجھنا بھی تمہی سے سیکھا

 

رشتۂ ناز کو جانا بھی تو تم سے جانا

جامۂ فخر پہننا بھی تمہی سے سیکھا

 

چھوٹی سی بات پہ خوش ہونا مجھے آتا تھا

پر بڑی بات پہ چپ رہنا تمہی سے سیکھا