Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


قیصر مسعود

نہ جنگل سے نہ میں صحرا کی ویرانی سے ڈرتا ہوں

نہ جنگل سے نہ میں صحرا کی ویرانی سے ڈرتا ہوں

بس اپنے شہر میں پھیلی بیابانی سے ڈرتا ہوں

 

کہاں مجھ کو ڈرا سکتی ہے دریاؤں کی طغیانی

مگر اس آنکھ سے بہتے ہوئے پانی سے ڈرتا ہوں

 

مرے شعروں میں تیرے حسن کی خوشبو جھلکتی ہے

اسی خاطر سر محفل غزل خوانی سے ڈرتا ہوں

 

پریشاں کر تو سکتا ہوں تجھے دو چار جملوں سے

مگر میں اس کے بعد اپنی پریشانی سے ڈرتا ہوں

 

یہی مشکل مجھے درپیش رہتی ہے کہ میں اکثر

نہیں ڈرتا کسی مشکل سے آسانی سے ڈرتا ہوں

 

ڈرا سکتی نہیں قیصر مجھے صحراؤں کی وحشت

میں خود صحرا ہوں اور اپنی ہی ویرانی سے ڈرتا ہوں