نہ جنگل سے نہ میں صحرا کی ویرانی سے ڈرتا ہوں
بس اپنے شہر میں پھیلی بیابانی سے ڈرتا ہوں
کہاں مجھ کو ڈرا سکتی ہے دریاؤں کی طغیانی
مگر اس آنکھ سے بہتے ہوئے پانی سے ڈرتا ہوں
مرے شعروں میں تیرے حسن کی خوشبو جھلکتی ہے
اسی خاطر سر محفل غزل خوانی سے ڈرتا ہوں
پریشاں کر تو سکتا ہوں تجھے دو چار جملوں سے
مگر میں اس کے بعد اپنی پریشانی سے ڈرتا ہوں
یہی مشکل مجھے درپیش رہتی ہے کہ میں اکثر
نہیں ڈرتا کسی مشکل سے آسانی سے ڈرتا ہوں
ڈرا سکتی نہیں قیصر مجھے صحراؤں کی وحشت