موسم کتنے بدلے ہیں
ھم ویسے کے ویسے ہیں
آنکھوں میں دو چشمے ہیں
ایک ہی سمت میں بہتے ہیں
تعبیروں پر کیا پچھتائیں
خواب ہی ایسے دیکھے ہیں
دکھ اور سکھ دو نام جدا
ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں
سورج کی قربانی دی ہے
تب یہ تارے نکلے ہیں