Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

مزاج کی نہیں ہو پھر بھی سننی پڑتی ہے

مزاج کی نہیں ہو پھر بھی سننی پڑتی ہے

کہ بات زہر بھی اُس کی نگلنی پڑتی ہے

 

یہ عشق ہے سو یہاں دیکھنے کا کام نہیں

کہ الٹے پاوں یہ سیڑھی اترنی پڑتی ہے

 

یہ آنکھ مفت میں کب خواب دیکھتی ہے میاں

اسے بھی نیند کی قیمت تو بھرنی پڑتی ہے

 

پرانے عشق کی تکمیل میں مگن ہے کوئی

برا نہ مان اُسے رہ بدلنی پڑتی ہے

 

یہ بے قراری وہیں سے نکالی جاتی ہے

ہماری آنکھ میں خوابوں کی چھلنی پڑتی ہے

 

تمہارے بعد محبت کسی سے کیا ہوگی

مگر یہ وقت گزاری تو کرنی پڑتی ہے

 

رباب ایسے نہیں وصل کی خوشی ملتی

کسیلی ہجر کی گولی نگلنی پڑتی ہے