Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


عنبریں حسیب عنبر

مرے لب پہ بس یہ دعا رہے

مرے لب پہ بس یہ دعا رہے

مرا گھر ہمیشہ بسا رہے

 

یوں ہی روز اس کی بلائیں لوں

مرا عشق یوں ہی نیا رہے

 

کئی رنگ ہیں مگر اے خدا

یہ جو باغ ہے، یہ ہرا رہے

 

یہ جو آندھیاں ہیں خجل رہیں

یہ چراغ یوں ہی جلا رہے

 

میں رہوں تو کیا، نہ رہوں تو کیا

مرا گھر جہاں میں سدا رہے

 

مرا گھر مزید ہو محترم

یہی میرے رب کی رضا رہے

 

یہ وطن بنام خدا بنا

یہ وطن بفیض خدا رہے