مرے لب پہ بس یہ دعا رہے
مرا گھر ہمیشہ بسا رہے
یوں ہی روز اس کی بلائیں لوں
مرا عشق یوں ہی نیا رہے
کئی رنگ ہیں مگر اے خدا
یہ جو باغ ہے، یہ ہرا رہے
یہ جو آندھیاں ہیں خجل رہیں
یہ چراغ یوں ہی جلا رہے
میں رہوں تو کیا، نہ رہوں تو کیا
مرا گھر جہاں میں سدا رہے
مرا گھر مزید ہو محترم
یہی میرے رب کی رضا رہے
یہ وطن بنام خدا بنا
یہ وطن بفیض خدا رہے