میں ہوں بنیاد کا پتھر تجھے معلوم نہیں
طاق و محراب مِرے ساتھ سفر کرتے ہیں
جانتے ہیں کہ مجھے نیند نہیں آتی ہے
پھر بھی کچھ خواب مِرے ساتھ سفر کرتے ہیں
دشت احساس تری پیاس سے میں ہار گیا
ورنہ سیلاب مرے ساتھ سفر کرتے ہیں