میں ہجر تھا وصال میں الجھا دیا گیا
اک خوشنما وبال میں الجھا دیا گیا
اس دل کو چند روزہ مسرت کے واسطے
اک دائمی ملال میں الجھا دیا گیا
دشمن کو میں پچھاڑنے والا تھا پر مجھے
زخموں کے اندمال میں الجھا دیا گیا
میں دوستوں میں خوش تھا' بہت خوش تھا پر مجھے
پھر سے ترے خیال میں الجھا دیا گیا
قیصر یہ عہد فکر و عمل ہے مگر مجھے