Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


قیصر مسعود

میں ہجر تھا وصال میں الجھا دیا گیا

میں ہجر تھا وصال میں الجھا دیا گیا

اک خوشنما وبال میں الجھا دیا گیا

 

اس دل کو چند روزہ مسرت کے واسطے

اک دائمی ملال میں الجھا دیا گیا

 

دشمن کو میں پچھاڑنے والا تھا پر مجھے

زخموں کے اندمال میں الجھا دیا گیا

 

میں دوستوں میں خوش تھا' بہت خوش تھا پر مجھے

پھر سے ترے خیال میں الجھا دیا گیا

 

قیصر یہ عہد فکر و عمل ہے مگر مجھے

خوابوں کی دیکھ بھال میں الجھا دیا گیا