Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری

میں بولی تیرے لب پر ہے ہنسی میری

وہ بولا مت بڑھاؤ بے کلی میری

 

میں بولی شاہزادے مول کیا میرا

وہ بولا شاہزادی زندگی میری

 

میں بولی تیرگی ہر سو زیادہ ہے

وہ بولا پھیلنے دو روشنی میری

 

میں بولی ہجر میں کیسے جیوگے تم

وہ بولا رک نہ جائے سانس ہی میری

 

میں بولی خواب کس کا دیکھتے ہو تم

وہ بولا آنکھ میں دیکھو کبھی میری

 

میں بولی کیوں بہت بے چین رہتے ہو

وہ بولا قہر ہے دل کی لگی میری

 

میں بولی تم سخن کے شاہزادے ہو

وہ بولا تم ہو جاناں شاعری میری

 

میں بولی زندگی پر دکھ کے سائے ہیں

وہ بولا تم ربابؔ اب ہر خوشی میری