مہتاب ، گُل ،غزال ،ستارہ کہا گیا
اک حسن ِ بے مثال کو کیا کیا کہا گیا
ہم تم گزارتے ہیں سمجھ کر جسے حیات
کیا ہو جو کل اسی کو تماشا کہا گیا
ایسا نہیں کہ لوگ نہ تھے واقفان ِ حال
بے چہرگی کو شوق سے چہرا کہا گیا
وحشت تھی میرے دل کی فقط ،جس کو دہر میں
صحرا کہا گیا کبھی دریا کہا گیا