Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری پاگل

لوگ کرتے ہیں فقط وقت گزاری پاگل

بات کرتا ہے یہاں کون ہماری پاگل

 

اس نے اک بار کہا ’’کوئی نہیں تم جیسا‘‘

تب سے میں لگنے لگی خود کو بھی پیاری پاگل

 

وہ بھی ہنس ہنس کے کیا کرتا تھا باتیں اور میں

اُس کی باتوں میں چلی آئی بچاری پاگل

 

ایک مدّت سے تری راہ میں آ بیٹھی ہے

عشق میں تیرے ہوئی راج کماری پاگل

 

میں نے پوچھا کہ کوئی مجھ سے زیادہ ہے حسیں

آئینہ ہنس کے یہ بولا اری جا ری پاگل

 

یوں نہیں ہے کہ فقط نین ہوئے ہیں میرے

دیکھ کر تجھ کو ہوئی ساری کی ساری پاگل

 

اس نے پوچھا کہ مری ہو ناں؟ تو پھر میں نے کہا

ہاں تمھاری، میں تمھاری، میں تمھاری پاگل

 

میں ربابؔ اس سے زیادہ تجھے اب کیا دیتی

زندگی میں نے ترے نام پہ واری پاگل