لوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے
کیا ملتا ہے مجھ کو رلا کر شہزادے
یوں ہی دکھ ہوجاویں گے کم شہزادے
آجا سکھ کے خواب بنیں ہم شہزادے
مری روح میں تیری یاد اترتی ہے
ہولے ہولے مدھم مدھم شہزادے
سونا چاہت ہیرا من شہزادے کا
عشق سراپا پیراہن شہزادے کا
ان کو آنسو مت کہنا اچھے لوگو
آنکھ میں اترا ہے ساون شہزادے کا