Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

لوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے

لوٹ رہے ہو ہاتھ چھڑا کر شہزادے

کیا ملتا ہے مجھ کو رلا کر شہزادے

 

یوں ہی دکھ ہوجاویں گے کم شہزادے

آجا سکھ کے خواب بنیں ہم شہزادے

 

مری روح میں تیری یاد اترتی ہے

ہولے ہولے مدھم مدھم شہزادے

 

سونا چاہت ہیرا من شہزادے کا

عشق سراپا پیراہن شہزادے کا

 

ان کو آنسو مت کہنا اچھے لوگو

آنکھ میں اترا ہے ساون شہزادے کا