Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ڈاکٹر طارق قمر

لکیر کھینچنا دیوار مت بنا لین

 

لکیر کھینچنا دیوار مت بنا لین

تم اختلاف کو آزار مت بنا لینا

 

بہ نام داد سخن یہ جو شور برپا ہے

اسے کلام کا معیار مت بنا لینا

 

کہانی سنتے رہو شوق سے مگر خود کو

کسی کہانی کا کردار مت بنا لینا

 

تمہارے اشکوں کی گویائی سے میں ڈرتا ہوں

انہیں وسیلۂ اظہار مت بنا لینا

 

محبتوں کے سفر میں یقیں تو لازم ہے

کسی کے وعدے کو پتوار مت بنا لینا

 

وصال سے ہی نکلتے ہیں ہجر کے موسم

گلوں کی شاخ کو تلوار مت بنا لینا

 

حویلیوں میں جو باقی شرافتیں ہیں ابھی

اب ان کو زینت بازار مت بنا لینا

 

یہ شہرتوں کی طلب ٹھیک ہے مگر طارقؔ

تم اپنی ذات کو اخبار مت بنا لینا