Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی

کیوں اے غم فراق یہ کیا بات ہو گئی

ہم انتظار صبح میں تھے رات ہو گئی

 

بہکے ہوئے بھٹکتے ہوئے کارواں کی خیر

رہبر سے راہزن کی ملاقات ہو گئی

 

دیوانگی کی خیر نہ مانگیں تو کیا کریں

دیوانگی ہی راز عنایات ہو گئی

 

سینوں میں سوز و ساز محبت نہیں رہا

دنیا رہین گردش حالات ہو گئی

 

لو ڈوبتوں نے دیکھ لیا ناخدا کو آج

تقریب کچھ تو بہر ملاقات ہو گئی