Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


قیصر مسعود

کتنا میٹھا بولتا ہے اور کتنا عمدہ بولتا ہے

کتنا میٹھا بولتا ہے اور کتنا عمدہ بولتا ہے

صبح سویرے ممٹی پر جو ایک پرندہ بولتا ہے

 

جھوٹ کے سناٹے میں جب بھی سچ کی ہلکی آہٹ ہو

مردہ شہر میں یوں لگتا ہے کوئی زندہ بولتا ہے

 

دل کی تختی پر نفرت کے کتنے داغ نمایاں ہیں

پھر پیشانی پر یہ آخر کیسا سجدہ بولتا ہے

 

کم گوئی انسان کی حیثیت کو بڑھاوا دیتی ہے

اتنا کم ہو جاتا ہے وہ جتنا زیادہ بولتا ہے

 

شام سمے جب دل کے اندر دھک دھک ہونے لگتی ہے

فوراً میرے ذہن میں قیصر کوئی وعدہ بولتا ہے