کتنا میٹھا بولتا ہے اور کتنا عمدہ بولتا ہے
صبح سویرے ممٹی پر جو ایک پرندہ بولتا ہے
جھوٹ کے سناٹے میں جب بھی سچ کی ہلکی آہٹ ہو
مردہ شہر میں یوں لگتا ہے کوئی زندہ بولتا ہے
دل کی تختی پر نفرت کے کتنے داغ نمایاں ہیں
پھر پیشانی پر یہ آخر کیسا سجدہ بولتا ہے
کم گوئی انسان کی حیثیت کو بڑھاوا دیتی ہے
اتنا کم ہو جاتا ہے وہ جتنا زیادہ بولتا ہے
شام سمے جب دل کے اندر دھک دھک ہونے لگتی ہے
فوراً میرے ذہن میں قیصر کوئی وعدہ بولتا ہے