خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنسِ الفت کا خریدار ہوں میں
عشق ہی عشق ہے دنیا میری
فتنہ ء عقل سے بے زار ہوں میں
خوابِ عشرت میں ہیں اربابِ خرد
اوراک شاعرِ بیدار ہوں میں
لے کے نکلا ہوں گہر ہائے سخن
ماہ و انجم کا خریدار ہوں میں
میری باتوں میں مسیحائی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ بیمار ہوں میں