Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ

کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ

وہ دلبرانِ زمیں، وہ فلک شعار سے لوگ

 

وہ موسموں کی صفت سب کو باعثِ تسکیں

وہ مہر و مہہ کی طرح سب پہ آشکار سے لوگ

 

نسیم صبح کے جھونکے ہمیں بھی چھو کے گزر

ہمیں بھی یاد ہیں کچھ موسمِ بہار سے لوگ