کہاں گئے مرے دلدار و غمگسار سے لوگ
وہ دلبرانِ زمیں، وہ فلک شعار سے لوگ
وہ موسموں کی صفت سب کو باعثِ تسکیں
وہ مہر و مہہ کی طرح سب پہ آشکار سے لوگ
نسیم صبح کے جھونکے ہمیں بھی چھو کے گزر
ہمیں بھی یاد ہیں کچھ موسمِ بہار سے لوگ