Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

جنونِ اولیں شائستگی تھی​

جنونِ اولیں شائستگی تھی

وہی پہلی محبت آخری تھی

 

کشادہ تھے بہت بازوِ وحشت

یہ زنجیرِخرد الجھی ہوئی تھی

 

جہاں ہم پھر سے بسنا چاہ رہے تھے

وہ بستی ہُو کی دنیا ہو چکی تھی

 

کبھی اک لفظ کے سو سو معانی

کبھی ساری کہانی اَن کہی تھی

 

اب اپنے آپ سے بھی چُھپ گئی ہے

وہ لڑکی جو سب کو جانتی تھی​​

 

سحر آغاز، شب اتمامِ حجت

عجب زہرا کی وضعِ زندگی تھی