Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو

جو دل نے کہی لب پہ کہاں آئی ہے دیکھو
اب محفل یاراں میں بھی تنہائی ہے دیکھو

پھولوں سے ہوا بھی کبھی گھبرائی ہے دیکھو
غنچوں سے بھی شبنم کبھی کترائی ہے دیکھو

اب ذوق طلب وجہ جنوں ٹھہر گیا ہے
اور عرض وفا باعث رسوائی ہے دیکھو

غم اپنے ہی اشکوں کا خریدا ہوا ہے
دل اپنی ہی حالت کا تماشائی ہے دیکھو