Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

جتنا میں خود کو بناتا ہوں روز

جتنا میں خود کو بناتا ہوں روز

اتنا ہی ٹوٹتا جاتا ہوں روز

 

 

ہجر کو پاس بٹھاتا ہوں روز

اک نیا درد بناتا ہوں روز

 

 

دشت کچھ تو جنوں کا راز بتا

دیکھ میں دور سے آتا ہوں روز

 

 

جانتا ہوں سنے گا کون یہاں

جانے کیوں شور مچاتا ہوں روز

 

 

اب دریچہ نہیں ہے کوئی وہاں

پھر بھی اس کوچے میں جاتا ہوں روز

 

 

روگ کچھ اور لگا ہے مجھ کو

غم کوئی اور مناتا ہوں روز

 

 

میری نظروں سے نہ دیکھے مجھ کو

آئنے کو میں بتاتا ہوں روز