جتنا میں خود کو بناتا ہوں روز
اتنا ہی ٹوٹتا جاتا ہوں روز
ہجر کو پاس بٹھاتا ہوں روز
اک نیا درد بناتا ہوں روز
دشت کچھ تو جنوں کا راز بتا
دیکھ میں دور سے آتا ہوں روز
جانتا ہوں سنے گا کون یہاں
جانے کیوں شور مچاتا ہوں روز
اب دریچہ نہیں ہے کوئی وہاں
پھر بھی اس کوچے میں جاتا ہوں روز
روگ کچھ اور لگا ہے مجھ کو
غم کوئی اور مناتا ہوں روز
میری نظروں سے نہ دیکھے مجھ کو
آئنے کو میں بتاتا ہوں روز