Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اسرار الحق مجاز

جلال آتش برق وسحاب پیدا کر

جلال آتش برق وسحاب پیدا کر

اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر

 

ترے خرام میں ہے زلزلوں کا راز نہاں

ہر ایک گام پر اک انقلاب پیدا کر

 

صدائے تیشۂ مزدور ہے ترا نغمہ

تو سنگ و خشت سے چنگ و رباب پیدا کر

 

بہت لطیف ہے اے دوست تیغ کا بوسہ

یہی ہے جانِ جہاں اس میں آب پیدا کر

 

ترے قدم پہ نظر آئے محفلِ انجم

وہ بانکپن، وہ اچھوتا شباب پیدا کر

 

ترا شباب امانت ہے ساری دنیا کی

تو خارزارِ جہاں میں گلاب پیدا کر

 

سکون خواب ہے بے دست و پا ضعیفی کا

تو اضطراب ہے خود اضطراب پیدا کر

 

نہ دیکھ زہد کی تو عصمتِ گنہ آلود

گنہ میں فطرتِ عصمت مآب پیدا کر

 

ترے جلو میں نئی جنتیں، نئے دوزخ

نئی جزائیں، انوکھے عذاب پیدا کر

 

شراب کھینچی ہے سب نے غریب کے خوں سے

تو اب امیر کے خوں سے شراب پیدا کر

 

گرا دے قصرِ تمدن کہ اک فریب ہے یہ

اٹھا دے رسمِ محبت، عذاب پیدا کر

 

جو ہو سکے ہمیں پامال کر کے آگے بڑھ

نہ ہو سکے تو ہمارا جواب پیدا کر

 

بہے زمیں پہ جو میرا لہو تو غم مت کر

اسی زمیں سے مہکتے گلاب پیدا کر

 

تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر

جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر