Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا

جاں دینا بس ایک زیاں کا سودا تھا

راہ طلب میں کس کو یہ اندازہ تھا

 

آنکھوں میں دیدار کا کاجل ڈالا تھا

آنچل پہ امید کا تارہ ٹانکا تھا

 

ہاتھوں کی بانکیں چھن چھن چھن ہنستی تھیں

پیروں کی جھانجھن کو غصہ آتا تھا

 

ہوا سکھی تھی میری، رت ہمجولی تھی

ہم تینوں نے مل کر کیا کیا سوچا تھا

 

ہر کونے میں اپنے آپ سے باتیں کیں

ہر پہچل پر آئینے میں دیکھا تھا

 

شام ڈھلے آہٹ کی کرنیں پھوٹی تھیں

سورج ڈوب کے میرے گھر میں نکلا تھا