عشق !اپنے ستم زیادہ کر
یعنی مجھ پر کرم زیادہ کر
اور نکھرے گا حسن آنکھوں گا
ان میں تھوڑا سا نم زیادہ کر
دل مرا سیر ہی نہیں ہوتا
میرے حصے میں غم زیادہ کر
کچھ توازن بھی رکھ محبت میں
اس کو تھوڑا سا کم' زیادہ کر
یہ نہ ہو میں گلے لگا لوں تجھے
فاصلہ دو قدم زیادہ کر
تھوڑی فکر وجود کم کر دے
اور فکر عدم زیادہ کر
کر عطا مجھ کو شاعری کا ہنر