Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


عنبریں حسیب عنبر

اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے

اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے

ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے

 

کچھ دیر کی رم جھم کو معلوم نہیں شاید

جل تھل نہ ہو آنگن تو برسات ادھوری ہے

 

کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی

ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے

 

محروم تمازت دن شب میں بھی نہیں خنکی

یہ کیسا تعلق ہے ہر بات ادھوری ہے