انسانوں کے بارے سوچتا رہتا ہوں
اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہوں
زندہ رہنے اور مرنے میں فرق ہے کیا
سوچوں کی سولی پر کٹتا رہتا ہوں
کسی پہ شاید میرا نام بھی لکھا ہو
میں قبروں کے کتبے پڑھتا رہتا ہوں
لوگ بھی مجھ سے ڈر کر دور نکلتے ہیں
اور میں بھی لوگوں سے ڈرتا رہتا ہوں
شہر کی گلیوں میں تہذیب کا سناٹا
میں آوارہ گھر میں پھرتا رہتا ہوں