Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

انسانوں کے بارے سوچتا رہتا ہوں

انسانوں کے بارے سوچتا رہتا ہوں

اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہوں

 

زندہ رہنے اور مرنے میں فرق ہے کیا

سوچوں کی سولی پر کٹتا رہتا ہوں

 

کسی پہ شاید میرا نام بھی لکھا ہو

میں قبروں کے کتبے پڑھتا رہتا ہوں

 

لوگ بھی مجھ سے ڈر کر دور نکلتے ہیں

اور میں بھی لوگوں سے ڈرتا رہتا ہوں

 

شہر کی گلیوں میں تہذیب کا سناٹا

میں آوارہ گھر میں پھرتا رہتا ہوں