Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں

مجھ کو لگی ہیں اب کے سزاوار تالیاں

 

پہلے تو اہل حق کو چڑھایا ہے دار پر

اُس پہ لگائیں جھوٹ کا انبار- "تالیاں"

 

ایسے سراہتا ہے یہ شہرِ منافقت

جیسے کسی کے فن کا ہوں انکار تالیاں

 

اس سمت تھا غریب کا لاشہ پڑا ہوا

بجنے لگیں کنارے کے اُس پار تالیاں

 

جو بارہویں کا لائے تھے کرتا لہو بھرا

گیارہ بجا رہے تھے عزادار تالیاں

 

جیسے میں اپنے دکھ پہ بجاتی ہوں آپ ہی

ایسے بجا کے دیکھ تو اک بار تالیاں

 

ہم نے سدا ہی جھوٹ سے کی ہیں بغاوتیں

ہم وہ نہیں بجائیں جو سرکار تالیاں

 

آنسو رباب ایسے خوشی سے نکل پڑے

جیسے ہوں بس ہجوم میں غمخوار تالیاں