اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں
مجھ کو لگی ہیں اب کے سزاوار تالیاں
پہلے تو اہل حق کو چڑھایا ہے دار پر
اُس پہ لگائیں جھوٹ کا انبار- "تالیاں"
ایسے سراہتا ہے یہ شہرِ منافقت
جیسے کسی کے فن کا ہوں انکار تالیاں
اس سمت تھا غریب کا لاشہ پڑا ہوا
بجنے لگیں کنارے کے اُس پار تالیاں
جو بارہویں کا لائے تھے کرتا لہو بھرا
گیارہ بجا رہے تھے عزادار تالیاں
جیسے میں اپنے دکھ پہ بجاتی ہوں آپ ہی
ایسے بجا کے دیکھ تو اک بار تالیاں
ہم نے سدا ہی جھوٹ سے کی ہیں بغاوتیں
ہم وہ نہیں بجائیں جو سرکار تالیاں
آنسو رباب ایسے خوشی سے نکل پڑے
جیسے ہوں بس ہجوم میں غمخوار تالیاں