Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں

اک بے ہنر کو داد میں ہر بار تالیاں

مجھ کو لگی ہیں اب کہ سزاوار تالیاں

 

ایسے سراہتا ہے یہ شہرِ منافقت

جیسے کسی کے فن کا ہوں انکار تالیاں

 

اس سمت تھا غریب کا لاشہ پڑا ہوا

بجنے لگیں کنارے کے اس پار تالیاں

 

جیسے میں اپنے دکھ پہ بجاتی ہوں آپ ہی

ایسے بجا کے دیکھ تو اک بار تالیاں

 

ہم نے سدا ہی جھوٹ سے کی ہیں بغاوتیں

ہم وہ نہیں بجائیں جو سرکار تالیاں

 

آنسو ربابؔ ایسے خوشی سے نکل پڑے

جیسے ہوں بس ہجوم میں غمخوار تالیاں