ہجر کچھ اس طرح گزارا ہے
وصل کہہ کر اسے پکارا ہے
ایک تنہائی تھی مری اپنی
اِس پہ بھی اُس کا ہی اجارہ ہے
عمر اتنی ابھی ہوئی تو نہیں
جتنا میں نے اسے گزارا ہے
فیصلہ ہو نہیں سکا اب تک
کون سے غم نے مجھ کو مارا ہے
زندگی پھر بھی میرے جیسی رہی
میں نے تو اس کو ہی سنوارا ہے