Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

ہجر کچھ اس طرح گزارا ہے

ہجر کچھ اس طرح گزارا ہے

وصل کہہ کر اسے پکارا ہے

 

 

ایک تنہائی تھی مری اپنی

اِس پہ بھی اُس کا ہی اجارہ ہے

 

 

عمر اتنی ابھی ہوئی تو نہیں

جتنا میں نے اسے گزارا ہے

 

 

فیصلہ ہو نہیں سکا اب تک

کون سے غم نے مجھ کو مارا ہے

 

 

زندگی پھر بھی میرے جیسی رہی

میں نے تو اس کو ہی سنوارا ہے