ہجر پیہم ہے کیا کیا جائے
مستقل غم ہے کیا کیا جائے
میں ہوں تنہا اور آپ کے حق میں
ایک عالم ہے کیا کیا جائے
جھوٹ کا اور عدل کا حیدر
ربط باہم ہے کیا کیا جائے