ہجر منائے جاتا ہوں
اشک بہائے جاتا ہوں
شعر سنائے جاتا ہوں
رنج اٹھائے جاتا ہوں
بات اپنے تک رکھنی تھی
سب کو بتائے جاتا ہوں
دوست بنانے نکلا تھا
یار گنوائے جاتا ہوں
دکھ سہتا ہوں چپ رہتا ہوں
ظلم ہی ڈھائے جاتا ہوں
آگ بجھانے والا تھا
آگ لگائے جاتا ہوں