Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

ہوا نے باندھ دیا رات سلسلہ ایسے

ہوا نے باندھ دیا رات سلسلہ ایسے

بلا رہا ہے کوئی دور سے لگا ایسے

 

جہاں بھی دیکھو وہاں پھول کھلنے لگتے ہیں

زمیں پہ چھوڑ گیا کوئی نقشِ پا ایسے

 

ہمیں لگا کہ کوئی شعر کہہ لیا ہم نے

ذرا سی دیر کہیں کوئی مل گیا ایسے

 

سکوت ایسا کہ اب خاک تک نہیں اڑتی

ہوائیں بھول بھی سکتی ہیں راستہ ایسے

 

نہ دھوپ میں وہ تڑپ ہے نہ سائے میں وہ کشش

کسی فقیر نے کیا دی ہے بددعا ایسے