Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

ہنستے رہنا تو اس کی عادت ہے

ہنستے رہنا تو اس کی عادت ہے

میں سمجھتا رہا محبت ہے

 

اپنی سادہ دلی پہ حیراں میں

وہ سمجھتا ہے اس کی ہیبت ہے

 

توڑ دینا ہنر نہیں کوئی

جوڑ دینا کمال حکمت ہے

 

اس سے بڑھ کر نہیں وبا کوئی

یہ تنفر بھری جو فطرت ہے

 

تم مجھے موت سے ڈراتے ہو؟

یہ مری زیست کی شہادت ہے

 

عشق کیا ہے تجھے بتاؤں میں

ابن حیدر کی یہ شہادت ہے