ہنستے رہنا تو اس کی عادت ہے
میں سمجھتا رہا محبت ہے
اپنی سادہ دلی پہ حیراں میں
وہ سمجھتا ہے اس کی ہیبت ہے
توڑ دینا ہنر نہیں کوئی
جوڑ دینا کمال حکمت ہے
اس سے بڑھ کر نہیں وبا کوئی
یہ تنفر بھری جو فطرت ہے
تم مجھے موت سے ڈراتے ہو؟
یہ مری زیست کی شہادت ہے
عشق کیا ہے تجھے بتاؤں میں
ابن حیدر کی یہ شہادت ہے