حاصلِ گفتگو ہے تنہائی
آج بھی رو بہ رو ہے تنہائی
شور کرتے ہیں سب قیامت کا
کس قدر چار سو ہے تنہائی
ہم سمجھتے رہے کہ ہے کوئی
اور یہاں کو بہ کو ہے تنہائی
پہلے کس درجہ خوف آتا تھا
اب مری آرزو ہے تنہائی
میں ہوں اپنی تلاش میں عنبر
اور مری جستجو ہے تنہائی