Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھا

ہر خار عنایت تھا ہر اک سنگ صلہ تھا

اس راہ میں ہر زخم ہمیں راہنما تھا

 

کیوں گھر کے اب آئے ہیں یہ بادل یہ گھٹائیں

ہم نے تو تجھے دیر ہوئی یاد کیا تھا

 

اے شیشہ گرو کچھ تو کرو آئنہ خانہ

رنگوں سے خفا رخ سے جدا یوں نہ ہوا تھا

 

ان آنکھوں سے کیوں صبح کا سورج ہے گریزاں

جن آنکھوں نے راتوں میں ستاروں کو چنا تھا