ہر آن سِتم ڈھائے ہے، کیا جانیے کیا ہو
دل غم سے بھی گھبرائے ہے، کیا جانیے کیا ہو
کیا غیر کو ڈھونڈیں، کہ تِرے کوُچے میں ہرایک
اپنا سا نظر آئے ہے، کیا جانیے کیا ہو
آنکھوں کو نہیں راس کِسی یاد کا آنسو
تھم تھم کے ڈھلک جائے ہے، کیا جانیے کیا ہو
اِس بحر میں ہم جیسوں پہ ہرموجۂ پُر خوُں!
آ آ کے گُزر جائے ہے، کیا جانیے کیا ہو
دُنیا سے نِرالے ہیں تِری بزم کے دستور
جو آئے سو پچھتائے ہے، کیا جانیے کیا ہو