ہیں اپنی چھوٹی سی ہر بات پر اڑے ہوئے ہم
بس ایک بات کی دوری پہ ہیں کھڑے ہوئے ہم
ہما شما کا ہی نقصان کرنے والے ہیں
ہما شما کی ہی تکرار میں پڑے ہوئے ہم
ہر ایک فن کی ہمیں چاہیے ہے مولائی
کہ ہیں تو قیمتی پتھر، پر ان گھڑے ہوئے ہم
بھلے بنا ہو ہمارے ہی خوں پسینے سے
چمکتے رہتے ہیں اس تاج میں جڑے ہوئے ہم
اگرچہ ہم ہی ہیں رسوائیوں کے ذمہ دار
کریں بھی کیا اسی ماحول میں بڑے ہوئے ہم