Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

ہیں اپنی چھوٹی سی ہر بات پر اڑے ہوئے ہم

ہیں اپنی چھوٹی سی ہر بات پر اڑے ہوئے ہم

بس ایک بات کی دوری پہ ہیں کھڑے ہوئے ہم

 

ہما شما کا ہی نقصان کرنے والے ہیں

ہما شما کی ہی تکرار میں پڑے ہوئے ہم

 

ہر ایک فن کی ہمیں چاہیے ہے مولائی

کہ ہیں تو قیمتی پتھر، پر ان گھڑے ہوئے ہم

 

بھلے بنا ہو ہمارے ہی خوں پسینے سے

چمکتے رہتے ہیں اس تاج میں جڑے ہوئے ہم

 

اگرچہ ہم ہی ہیں رسوائیوں کے ذمہ دار

کریں بھی کیا اسی ماحول میں بڑے ہوئے ہم