گھر کے رستے اب کسی رستے سے ملتے ہی نہیں
لوگ اپنے حجرۂ جاں سے نکلتے ہی نہیں
ساری ساری رات مائیں سوچتی رہتی ہیں یہ
گھر سے کیوں جاتے ہیں بچے جب پلٹتے ہی نہیں
اپنے اپنے روٹھے یاروں کو منانے کے لیے
رقص دیوانے سرِ بازر کرتے ہی نہیں
جن سے سیکھا تھا طریقِ گفتگو، طرز کلام
ایسے خاموش ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں