Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


زہرا نگاہ

گھر کے رستے اب کسی رستے سے ملتے ہی نہیں

گھر کے رستے اب کسی رستے سے ملتے ہی نہیں

لوگ اپنے حجرۂ جاں سے نکلتے ہی نہیں

 

ساری ساری رات مائیں سوچتی رہتی ہیں یہ

گھر سے کیوں جاتے ہیں بچے جب پلٹتے ہی نہیں

 

اپنے اپنے روٹھے یاروں کو منانے کے لیے

رقص دیوانے سرِ بازر کرتے ہی نہیں

 

جن سے سیکھا تھا طریقِ گفتگو، طرز کلام

ایسے خاموش ہیں جیسے کبھی تھے ہی نہیں