غم کی رنگت نکھر بھی سکتی ہے
شاعری زخم بھر بھی سکتی ہے
تم کسی زعم میں نہیں رہنا
شاہزادی مکر بھی سکتی ہے
وہ جو دل سے اُترنے والی ہے
بات دل میں اُتر بھی سکتی ہے
جس کی خاطر تُو جی نہیں سکتا
تیری خاطر وہ مر بھی سکتی ہے
تیرگی سے بھلا ڈریں کیوں کر
شب تو شب ہے گزر بھی سکتی ہے
کچھ ضروری نہیں کہ لوٹ آئے
یہ نظر ہے ٹھہر بھی سکتی ہے
یہ نہ ہو آہ تم کو لگ جائے
اب کے وہ ضبط کر بھی سکتی ہے
میری خوشبو ہوا میں ہے تحلیل
تجھ کو چھو کر گزر بھی سکتی ہے
تُو اگر دیکھ لے مری جانب
میری قسمت سنور بھی سکتی ہے
کیا کہا ،آپ ملنے آئیں گے؟
یعنی صورت نکھر بھی سکتی ہے
اُس نے سوچا نہیں رباب کبھی
ایک لڑکی ہے ، ڈر بھی سکتی ہے