Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

غم کی رنگت نکھر بھی سکتی ہے

غم کی رنگت نکھر بھی سکتی ہے

شاعری زخم بھر بھی سکتی ہے

 

تم کسی زعم میں نہیں رہنا

شاہزادی مکر بھی سکتی ہے

 

وہ جو دل سے اُترنے والی ہے

بات دل میں اُتر بھی سکتی ہے

 

جس کی خاطر تُو جی نہیں سکتا

تیری خاطر وہ مر بھی سکتی ہے

 

تیرگی سے بھلا ڈریں کیوں کر

شب تو شب ہے گزر بھی سکتی ہے

 

کچھ ضروری نہیں کہ لوٹ آئے

یہ نظر ہے ٹھہر بھی سکتی ہے

 

یہ نہ ہو آہ تم کو لگ جائے

اب کے وہ ضبط کر بھی سکتی ہے

 

میری خوشبو ہوا میں ہے تحلیل

تجھ کو چھو کر گزر بھی سکتی ہے

 

تُو اگر دیکھ لے مری جانب

میری قسمت سنور بھی سکتی ہے

 

کیا کہا ،آپ ملنے آئیں گے؟

یعنی صورت نکھر بھی سکتی ہے

 

اُس نے سوچا نہیں رباب کبھی

ایک لڑکی ہے ، ڈر بھی سکتی ہے