گلے لگا کے وہ ایسے اداس چھوڑ گیا
بدن میں روح تلک اپنی باس چھوڑ گیا
بچھڑ تے وقت محبت کا آخری بوسہ
میرے لبوں پہ انوکھی مٹھاس چھوڑ گیا
اسے خبر ہے اکیلا ہوں میں اسی خاطر
وہ اپنا آپ مرے آس پاس چھوڑ گیا
اٹھا کے لے گیا مضمون سب محبت کے
ہمارے پاس فقط اقتباس چھوڑ گیا
وہ سانحہ تو بالآخر گزر گیا لیکن
ہمارے شہر میں خوف و ہراس چھوڑ گیا
بھڑک بھڑک کے بڑھکتی ہے انتقام کی آگ
میرے لہو میں وہ ایسی بھڑاس چھوڑ گیا
پلٹ کے آئے نہ آئے مگر یہی ہے بہت
مرے لیے وہ پلٹنے کی آس چھوڑ گیا
ہر ایک چیز وہ ہمراہ لے گیا قیصر