Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


قیصر مسعود

گلے لگا کے وہ ایسے اداس چھوڑ گیا

گلے لگا کے وہ ایسے اداس چھوڑ گیا

بدن میں روح تلک اپنی باس چھوڑ گیا

 

بچھڑ تے وقت محبت کا آخری بوسہ

میرے لبوں پہ انوکھی مٹھاس چھوڑ گیا

 

اسے خبر ہے اکیلا ہوں میں اسی خاطر

وہ اپنا آپ مرے آس پاس چھوڑ گیا

 

اٹھا کے لے گیا مضمون سب محبت کے

ہمارے پاس فقط اقتباس چھوڑ گیا

 

وہ سانحہ تو بالآخر گزر گیا لیکن

ہمارے شہر میں خوف و ہراس چھوڑ گیا

 

بھڑک بھڑک کے بڑھکتی ہے انتقام کی آگ

میرے لہو میں وہ ایسی بھڑاس چھوڑ گیا

 

پلٹ کے آئے نہ آئے مگر یہی ہے بہت

مرے لیے وہ پلٹنے کی آس چھوڑ گیا

 

ہر ایک چیز وہ ہمراہ لے گیا قیصر

بس ایک میں ہوں جسے وہ اداس چھوڑ گیا