اک حیرت_تعبیر کی ہوں قید میں جب سے
ملتا ہوں میں خود کو بھی کسی اور سبب سے
اک خواب ہی ٹوٹا تھا مجھے اتنا ہے معلوم
جاگا بھی نہیں اور میں سویا نہیں تب سے
منظر مری آنکھوں میں ہے اور گریہ ہے دل میں
اک روز میں بچھڑا تھا کسی جان بلب سے
اس شہر_ فسوں ساز کی تہذیب الگ ہے
اس میں تو چہکتے ہیں پرندے بھی ادب سے
اب دل کی نہیں سانس کی سنتا ہوں میں آواز
کرتا ہوں شب و روز میں روبوٹ کے ڈھب سے