Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

اک حیرت_تعبیر کی ہوں قید میں جب سے

اک حیرت_تعبیر کی ہوں قید میں جب سے

ملتا ہوں میں خود کو بھی کسی اور سبب سے

 

اک خواب ہی ٹوٹا تھا مجھے اتنا ہے معلوم

جاگا بھی نہیں اور میں سویا نہیں تب سے

 

منظر مری آنکھوں میں ہے اور گریہ ہے دل میں

اک روز میں بچھڑا تھا کسی جان بلب سے

 

اس شہر_ فسوں ساز کی تہذیب الگ ہے

اس میں تو چہکتے ہیں پرندے بھی ادب سے

 

اب دل کی نہیں سانس کی سنتا ہوں میں آواز

کرتا ہوں شب و روز میں روبوٹ کے ڈھب سے