Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


عنبریں حسیب عنبر

عید آئی مگر خوشی کے بغیر

عید آئی مگر خوشی کے بغیر

پھول جیسے ہو دل کشی کے بغیر

 

مائیں روتی ہیں، عید پر بچے

گھر کو آئے ہیں زندگی کے بغیر

 

زندگی ہوگئی ہے کچھ ایسے

آنکھ جیسے ہو روشنی کے بغیر

 

کیا کوئی اور بھی قیامت ہے!

اب تو بچے بھی ہیں ہنسی کے بغیر

 

کچھ عجب طور سے دکھا ہے دل

ورنہ میں! اور شاعری کے بغیر

 

رنج اُٹھائے ہیں اس قدر عنبر

آنکھ روتی ہے اب نمی کے بغیر