عید آئی مگر خوشی کے بغیر
پھول جیسے ہو دل کشی کے بغیر
مائیں روتی ہیں، عید پر بچے
گھر کو آئے ہیں زندگی کے بغیر
زندگی ہوگئی ہے کچھ ایسے
آنکھ جیسے ہو روشنی کے بغیر
کیا کوئی اور بھی قیامت ہے!
اب تو بچے بھی ہیں ہنسی کے بغیر
کچھ عجب طور سے دکھا ہے دل
ورنہ میں! اور شاعری کے بغیر
رنج اُٹھائے ہیں اس قدر عنبر
آنکھ روتی ہے اب نمی کے بغیر