Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

دل میں ٹھہرا درد نگوڑا کوزہ گر

دل میں ٹھہرا درد نگوڑا کوزہ گر

کیسے موڑ پہ تونے چھوڑا کوزہ گر

 

میں بھی خود سے روٹھی روٹھی رہتی ہوں

جب سے توٗ نے مُکھ ہے موڑا کوزہ گر

 

اب تو بکھرے بکھرے ہیں اجزا میرے

جوڑا تھا تو کیوں کر توڑا کوزہ گر

 

میری ہستی میں بھی تیری ہستی ہے

میرا مجھ میں کچھ بھی نہ چھوڑا کوزہ گر

 

میں نے خود میں تیری یاد سجائی ہے

جب بھی تونے تنہا چھوڑا کوزہ گر

 

رگ رگ میں اب محشر برپا رہتا ہے

دکھ تھا پہلے بھی کب تھوڑا کوزہ گر

 

کس نے مجھ سے چہرہ میرا چھینا ہے

کس نے میرا خون نچوڑا کوزہ گر