دائرے ہی دائرے ہیں بے حساب
راز ابھی تک ان کھلے ہیں بے حساب
خود پہ جس کو زعم ہے وہ دیکھ لے
اس جہاں میں آئینے ہیں بے حساب
وہ نہ آنا چاہے تو یہ اور بات
میرے گھر کے راستے ہیں بے حساب
آپ بھی مصروف رہتے ہیں بہت
اور مرے بھی مسئلے ہیں بے حساب
آپ دیتے ہیں محبت تول کر
اور مجھ سے مانگتے ہیں بے حساب
سو رہے ہیں سونے والے بے شمار
اور یوں ہی جاگتے ہیں بے حساب
دشمنی کرنے کی اب فرصت نہیں
دوست میرے بن گئے ہیں بے حساب