Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

دائرے ہی دائرے ہیں بے حساب

دائرے ہی دائرے ہیں بے حساب

راز ابھی تک ان کھلے ہیں بے حساب

 

خود پہ جس کو زعم ہے وہ دیکھ لے

اس جہاں میں آئینے ہیں بے حساب

 

وہ نہ آنا چاہے تو یہ اور بات

میرے گھر کے راستے ہیں بے حساب

 

آپ بھی مصروف رہتے ہیں بہت

اور مرے بھی مسئلے ہیں بے حساب

 

آپ دیتے ہیں محبت تول کر

اور مجھ سے مانگتے ہیں بے حساب

 

سو رہے ہیں سونے والے بے شمار

اور یوں ہی جاگتے ہیں بے حساب

 

دشمنی کرنے کی اب فرصت نہیں

دوست میرے بن گئے ہیں بے حساب