دیار صبح میں خوشبو کی بستیاں جاگیں
کھلے جو پھول تو باغوں میں تتلیاں جاگیں
کئی دنوں سے جو سوئی تھیں بدلیاں اوڑھے
گزشتہ رات فلک پر وہ بجلیاں جاگیں
تمام رات گلی میں رہی کوئی آہٹ
تمام رات مرے گھر کی کھڑکیاں جاگیں
بوقت فجر جو خورشید نے دیے بوسے
طویل نیند سے مخمور لڑکیاں جاگیں
نکل پڑا جو کسی قریہ ء طرب کی طرف
پس خیال کئی غم کی گھاٹیاں جاگیں
یہ چاند رات٫یہ گل پوش مہ وشوں کا ہجوم
مری کے مال پہ خوشبو کی ٹولیاں جاگیں
اذان آج بھی تاخیر سے ہوئی قیصر
سو طائروں کی صداؤں پہ بستیاں جاگیں