بس ذرا دیر سے احساس ہوا تھا مجھ کو
وہ بھی میری ہی طرح سوچ رہا تھا مجھ کو
یہ ہی اک شخص بھٹکتا ہے جو صحرا صحرا
ایک دن شہرِ تمنا میں ملا تھا مجھ کو
میں تو موجود تھا ہر دم ترے افسانے میں
تیرے راوی نے مگر مار دیا تھا مجھ کو
میں نے جب اس کو بتایا تو ذرا ابر چھٹا
اس نے اوروں کی زبانی ہی سنا تھا مجھ کو
اور پھر کہہ ہی دیا میں نے بھی اک دن آمین
وہ دعاؤں میں بہت مانگ رہا تھا مجھ کو
یہ نہ سوچا تھا کہ اس رنج پہ ہونا ہے تمام
ختم ہونا ہے تعلق یہ پتہ تھا مجھ کو
اختیار اس کا ہواؤں پہ نہیں تھا طارق
اس نے دہلیز پہ روشن تو کیا تھا مجھ کو