Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


ڈاکٹر طارق قمر

بس ذرا دیر سے احساس ہوا تھا مجھ کو

بس ذرا دیر سے احساس ہوا تھا مجھ کو

وہ بھی میری ہی طرح سوچ رہا تھا مجھ کو

 

یہ ہی اک شخص بھٹکتا ہے جو صحرا صحرا

ایک دن شہر تمنا میں ملا تھا مجھ کو

 

میں تو موجود تھا ہر دم ترے افسانے میں

میرے راوی نے مگر مار دیا تھا مجھ کو

 

میں نے جب اس کو بتایا تو ذرا ابر چھٹا

اس نے اوروں کی زبانی ہی سنا تھا مجھ کو

 

اور پھر کہہ ہی دیا میں نے بھی اک دن آمین

وہ دعاؤں میں بہت مانگ رہا تھا مجھ کو

 

ہو نہ ہو وہ پس دیوار ابھی ہے موجود

روشنی کا ابھی احساس ہوا تھا مجھ کو

 

یہ نہ سوچا تھا کہ اس رنج پہ ہونا ہے تمام

ختم ہونا ہے تعلق یہ پتا تھا مجھ کو

 

یہ جو پتھرائی سی آنکھیں ہیں اسی شخص کی ہیں

جس نے رستے میں کبھی چھوڑ دیا تھا مجھ کو

 

اختیار اس کا ہواؤں پہ نہیں تھا طارقؔ

اس نے دہلیز پہ روشن تو کیا تھا مجھ کو