Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


اعجاز حیدر

بجا کہ عشق میں ہم ہجر کے تو قائل ہیں

بجا کہ عشق میں ہم ہجر کے تو قائل ہیں

رہ_سلوک کے کچھ اور بھی مراحل ہیں

 

لگے گی عمر پہنچتے ہوئے یقین تلک

ابھی تو راہ میں کتنے گمان حائل ہیں

 

وفا کی جنگ میں اب ہار جاوں یا جیتوں

لگا دیئے ہیں مرے پاس جو وسائل ہیں

 

میں اپنے حق میں بھلا کیسے فیصلہ دے دوں

مرے خلاف مرے اپنے ہی دلائل ہیں

 

ہم ایسے لوگوں نے دست_جنوں پہ بیعت کی

تمھیں یہ کس نے کہا ہم خرد کے قائل ہیں

 

سلام ان کو جو رکھتے ہیں دوستوں کا بھرم

کہ ایسے لوگ مری جان ہیں مرا دل ہیں