بجا کہ عشق میں ہم ہجر کے تو قائل ہیں
رہ_سلوک کے کچھ اور بھی مراحل ہیں
لگے گی عمر پہنچتے ہوئے یقین تلک
ابھی تو راہ میں کتنے گمان حائل ہیں
وفا کی جنگ میں اب ہار جاوں یا جیتوں
لگا دیئے ہیں مرے پاس جو وسائل ہیں
میں اپنے حق میں بھلا کیسے فیصلہ دے دوں
مرے خلاف مرے اپنے ہی دلائل ہیں
ہم ایسے لوگوں نے دست_جنوں پہ بیعت کی
تمھیں یہ کس نے کہا ہم خرد کے قائل ہیں
سلام ان کو جو رکھتے ہیں دوستوں کا بھرم
کہ ایسے لوگ مری جان ہیں مرا دل ہیں