بات جھوٹی، اثر خیالی ہے
سرفروشی کا سر خیالی ہے
کٹ گئی خواب ٹوٹنے میں عمر
یعنی سارا سفر خیالی ہے
بھائی چارہ، خلوص، آشتی، امن
ہے سبھی کچھ مگر خیالی ہے
جلتے رہناچراغِ شب مرے ساتھ
ہجر بھاری سحر خیالی ہے
آتے جاتے رہا کرو اس پر
دل میں اک رہگزر خیالی ہے
فلسفہ ہے یہ حادثہ نہیں ہے
کربلا صرف واقعہ نہیں ہے