عطائے مہر ہیں، نامہربانیوں کے نہیں
جو زخم ہم کو ملے ہیں، وہ دشمنوں کے نہیں
محبتیں تو کجا، یہ مروّتوں کے نہیں
یہ کیسے لوگ ہیں، اپنی سہولتوں کے نہیں
ستم تو یہ ہے کہ ہر سیلِ بے لحاظ کے بعد
کوئی گہر بھی نصیبوں میں ساحلوں کے نہیں
شکستہ پر سے پرندے ہیں، برسرِ دیوار
کہ اب درخت بھی قسمت میں جنگلوں کے نہیں
عجیب رختِ سفر ہے کہ دسترس سے ہے دُور
عجیب قافلے والے کہ راستوں کے نہیں