Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

عجیب چھایا ہے خوف و ہراس آنکھوں میں

عجیب چھایا ہے خوف و ہراس آنکھوں میں

تمھارا درد نہیں ہے اداس آنکھوں میں

 

تمام دشت پہ طاری ہے وجد کا عالم

جنوں کا رقص ستارا شناس آنکھوں میں

 

گئے زمانوں سے رشتہ مرا نہیں ٹوٹا

ادھورے خوابوں کی رکھّی ہے باس آنکھوں میں

 

ہر ایک چہرے سے ایسا دھواں نہیں اٹھتا

یہ خاص روشنی ہوتی ہے خاص آنکھوں میں

 

یہ کیسا خواب سجا ہے ربابؔ کچھ دن سے

کہ کم نہیں کبھی ہوتی مٹھاس آنکھوں میں