Scholar Publishing House

اسکالر پبلشنگ ہاؤس

اسکالر پبلشنگ ہاؤس


فوزیہ رباب

اب کسی طور ترے بن نہیں رہنا پاگل

اب کسی طور ترے بن نہیں رہنا پاگل

سوچ رکھا ہے تجھے کچھ نہیں کہنا پاگل

 

اب مرے دکھ میں تو پہلے سے کمی آئی ہے

پر مجھے اور ترا دکھ نہیں سہنا پاگل

 

ڈوبنا ہے تو اترنا ہے ترے اندر تک

مجھ کو یوں ہی تو نہیں موج میں بہنا پاگل

 

میں، مری روح، مرا دل تو رہا کرتا تھا

اب تو رہتا ہے تری یاد میں گہنا پاگل

 

اپنے انداز بدلنے سے ہے تم کو بھی گریز

مجھ کو بھی اور زیادہ نہیں رہنا پاگل

 

اب ستاتے ہیں وہ ماضی کے جھروکے بھی ربابؔ

وہ مرے کان میں آکر ترا کہنا ’’پاگل‘‘